اس حدیث میں مرد کے لیے اس خاتون کو دیکھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے جس سے وہ نکاح کا امیدوار ہو اور یہ عمل دونوں کےمابین باہمی موافقت اور اتفاق پیدا کرنے کا سب سے انتہائی قریب ترین ذریعہ ہے اور اس کو دیکھنا، دونوں میں باہمی اصلاح قائم کرنے اور الفت و موافقت پیدا کرنے کا موزوں ترین عمل ہے نیز اس کے بعد ہونے والا نکاح علم و آگہی کے ساتھ ہوگا اورعموماً اس کے بعد ندامت و شرمندگی کا سامنا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کرنے کے سلسلہ میں نبی ﷺ سے مشورہ طلب کیا تو آپ ﷺ نے انہیں اس خاتون کو دیکھنے کی ہدایت فرمائی تاکہ دونوں کے مابین موافقت کا حصول یقینی ہوجائے۔ نیز اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ نبی ﷺ سے وارد ہونے والے ہر بات کو ذرہ برابر تامل کیے بغیر قبول کرنا واجب ہے کیوں کہ آپ ﷺ کے فرامین میں خیر و بھلائی اور درستگی و نیکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔