مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو نکاح کا پیغام دے رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے دیکھ لو کیوں کہ یہ تمہارے باہمی رشتے کی پائیداری کے لیے نہایت مناسب ہے، چنانچہ میں ایک انصاریہ عورت کے پاس آیا اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا اور نبی اکرم ﷺ کا فرمان سنایا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ اس کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس عورت نے پس پردہ یہ بات سنی تو کہا اگر رسول اللہ ﷺ نے دیکھنے کا حکم دیا ہے، تو تم دیکھ لو، ورنہ میں تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دلاتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس عورت کو دیکھا اور اس سے شادی کر لی، پھر انھوں نے اس کا ہم مزاج ہونا ذکر کیا ۔ صحیح - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

اس حدیث میں مرد کے لیے اس خاتون کو دیکھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے جس سے وہ نکاح کا امیدوار ہو اور یہ عمل دونوں کےمابین باہمی موافقت اور اتفاق پیدا کرنے کا سب سے انتہائی قریب ترین ذریعہ ہے اور اس کو دیکھنا، دونوں میں باہمی اصلاح قائم کرنے اور الفت و موافقت پیدا کرنے کا موزوں ترین عمل ہے نیز اس کے بعد ہونے والا نکاح علم و آگہی کے ساتھ ہوگا اورعموماً اس کے بعد ندامت و شرمندگی کا سامنا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کرنے کے سلسلہ میں نبی ﷺ سے مشورہ طلب کیا تو آپ ﷺ نے انہیں اس خاتون کو دیکھنے کی ہدایت فرمائی تاکہ دونوں کے مابین موافقت کا حصول یقینی ہوجائے۔ نیز اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ نبی ﷺ سے وارد ہونے والے ہر بات کو ذرہ برابر تامل کیے بغیر قبول کرنا واجب ہے کیوں کہ آپ ﷺ کے فرامین میں خیر و بھلائی اور درستگی و نیکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔