یہود بغیر کسی علمی استناد کے ہیئتِ جماع سے متعلق تنگ نظری کا شکار تھے اور اوس وخزرج کے لوگ ان کے اقوال و احوال کو ان کے اہلِ کتاب ہونے کی وجہ سے لیتے تھے، یہودیوں کی منجملہ افترا پردازیوں میں سے ان کا یہ قول بھی تھا: اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے اور یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ مباح ہے بشرطیکہ جماع قُبل میں ہو یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو“۔