ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میری ایک لونڈی ہے اور میں اس سے عزل کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں ہے اور میں وہی چاہتا ہوں جو مرد چاہتے ہیں۔ مگر یہودی کہتے ہیں کہ عزل کرنا چھوٹے انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہودی غلط کہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنا چاہے گا تو، تو اسے ٹال نہیں سکتا۔ صحیح - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

اس حدیث میں یہود کے اس خیال کا رد کیا جا رہا ہے کہ عزل کی وجہ سے سرے سے حمل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور انہوں نے اس کو زندہ درگور کر کے قطع نسل کے درجہ میں رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کوجھوٹا قراردیا اور یہ بتایا کہ اگر اللہ کسی کی تخلیق چاہتا ہے تو کوئی بھی اس حمل کو روک نہیں سکتا۔ اور اگر اللہ تخلیق کا ارادہ نہیں رکھتا تو وہ حقیقتاً اس کو درگور نہیں کررہا۔ اس لیے صحابی کو اپنی لونڈی سے عزل کی اجازت دی اور یہود کے دعویٰ کا رد بھی کیا۔