نبی ﷺ صحابہ کرام میں خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا افضل ترین اعمال ہیں۔ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ مجھے یہ بتائیں کہ اگر میں اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرتا ہوا ماراجاؤں تو کیا اس وجہ سے میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہاں، لیکن شرط یہ ہے کہ تم اس حال میں مارے جاؤ کہ تم پرجو مصائب آئیں اس پر تم صبر کرنے والے ہو، تمہارا یہ عمل خالصتا اللہ کے لیے ہو، تم میدانِ جہاد سے راہ فراراختیار نہ کرو۔ پھر نبی ﷺ نے ازراہ استدارک قرض کا ذکرکیا اورتنبیہ فرمائی کہ جہاد اور شہادت سے حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔