حدیث کا مفہوم: جس نے اللہ کے دشمنوں کے چہروں میں ایک تیر مارا اسے اس شخص کے مساوی اجر ملتا ہے جس نے اللہ کی راہ میں کوئی غلام آزاد کر دیا ہو چاہے یہ تیر دشمن کو لگے یا نہ لگے جیسا کہ سنن نسائی کی روایت میں وضاحت ہے کہ ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر مارا اور وہ دشمن تک پہنچا یا نہ پہنچا“۔ اگر یہ دشمن کو لگ جائے تو اس کے بدلے میں اسے جنت میں ایک درجہ ملتا ہے جیسا کہ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ ”جس کا اللہ کے راستے میں مارا ہوا تیر نشانے پر لگ گیا اس کے لیے ایک درجہ ہے‘‘۔ اور احمد کی روایت میں ہے کہ "جنت میں (ایک درجہ ہے)“۔