اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ مسلمان پر ہر حال میں اپنے حاکموں کو سن کر ان کی اطاعت کرنا کرنا لازم ہے، جب تک وہ اسے گناہ کا حکم نہ دیں یا ایسی چیز کا مکلف نہ بنائیں جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو، اگرچہ یہ اس پر کسی وقت گراں گزرے یا اس کے کسی حق کے ضائع ہونے کے سبب بنے، اس لیے کہ عمومی مصلحت خصوصی مصلحت پر مقدم ہے۔