جنگ جمل کے موقع پر جو کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے کے معاملے پر ہوئی تھی، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: "میں سمجھتا ہوں کہ میں مظلوم شہید کر دیا جاؤں گا۔ مجھے جس چیز کی پرواہ ہے وہ میرے قرض ہیں جو میرے اوپر چڑھے ہوئےہیں، لھٰذا تم انھیں میری طرف سے ادا کر دینا۔" زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے قرض اتنے زیادہ تھے کہ وہ ان کے سارے مال کو محیط تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے بیٹے کے بچوں (پوتوں) کے لیے وصیت کی۔ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ وراثت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ ان کا بیٹا زندہ ہے۔ اس لیے انہوں نے تہائی مال کی وصیت کا ایک تہائی حصہ ان کے لئے مختص کر دیا جو سارے مال کا نواں حصہ بنتا ہے۔ لوگ اپنا مال ان کے پاس بطور امانت رکھنے کے لیے آتے، تو وہ اس اندیشے کے تحت بطور امانت اسے لینے سے انکار کر دیتے کہ کہیں وہ ضائع نہ ہو جائے اور فرماتے: "یہ امانت نہیں بلکہ مجھ پر قرض ہے۔" زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ایک زاہد و امانت دار شخص تھے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی حکومتی عہدہ یا کسی بھی شے کی ذمے داری نہیں اٹھائی تھی۔ جب ان کی وفات ہو گئی اور ان کے بیٹے نے ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کر دیا اور ان کا کچھ مال بچ بھی گیا تو ورثاء نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ باقی ماندہ کو ان کے مابین تقسیم کر دیں۔ لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ کہتے ہوئے اسے تقسیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ ایام حج میں اعلان کرانے کے بعد ہی اسے تقسیم کریں گے۔ اگر یہ بالکل واضح ہو گیا کہ کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہا جس کا ان کے والد پر قرض ہو تو وہ اسے ان میں تقسیم کر دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ جب سارا قرض ادا کر چکے تو آٹھواں حصہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیویوں کو دے دیا جو ترکے میں ان کا حصہ بنتا تھا۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی اس وقت چار بیویاں تھیں۔