عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو اہل کوفہ نے امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی شکایت کی۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ وہ تو اچھی طرح سے نماز بھی نہیں پڑھاتے۔ سعد رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے، جنھیں نبی ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی؛ اس لیے عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں بلا بھیجا۔ وہ حاضر ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اہلِ کوفہ نے آپ کی شکایت کی ہے۔ وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ آپ اچھی طرح سے نماز بھی نہیں پڑھاتے! سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ نبی ﷺ کی نماز کی طرح نماز پڑھایا کرتے تھے اور عشا کی نماز کا ذکر کیا۔ شاید شکایت کرنے والوں کو اسی نماز کے متعلق شکایت تھی۔ انہوں نے کہا: میں تو انھیں نبی کریم ﷺ ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا۔ اس میں کوتاہی نہیں کرتا تھا۔ عشا کی نماز پڑھاتا، تو اس کی پہلی دو رکعات میں (قراءت) لمبی کرتا اور بعد کی دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:اے ابو اسحاق! مجھ کو آپ سے یہی امید تھی۔ گویا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا تزکیہ کیا؛ کیوں کہ ان کو اس بات کا یقین تھا کہ وہ نماز اچھی طرح ادا کرتے ہوں گے اور قوم کو اسی طرح نماز پڑھاتے ہوں گے، جس طرح نبی ﷺ نے حکم دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح کی کارروائی کی؛ کیوں کہ وہ ذمے داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے اور ذمے داری کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ آپ نے کچھ آدمیوں کو کوفہ والوں کے پاس بھیجا؛ تاکہ وہ اہل کوفہ سے سعد رضی اللہ عنہ اور ان کی سیرت کے متعلق معلومات حاصل کریں۔ ان لوگوں نے ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا۔ سب نے ان کی تعریف کی؛ لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے اور ان سے پوچھا، تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے، تو (سنیے کہ) یہ شخص نہ جہاد میں نکلتا ہے، نہ صحیح طور پر مالِ غنیمت تقسیم کرتا ہے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتا ہے۔ اس نے سعد رضی اللہ عنہ پر تین تہمتیں لگائیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ جب تم نے ایسا کہا ہے، تو اللہ کی قسم! میں (تمھاری اس بات پر) تین بد دعائیں کرتا ہوں۔ چنانچہ انھوں نے بد دعا کی کہ اللہ اس کی عمر دراز کرے ، بہت زیادہ محتاج بنائے اور فتنوں میں مبتلا کردے! العیاذ باللہ۔ یہ تین بڑی بد دعائیں تھیں۔ لیکن سعد رضی اللہ عنہ نے استثنا کا طریقہ اپنایا اور فرمایا: "اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے"۔ یعنی نا حق تہمت لگائی ہے۔ چنانچہ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمالی اور اس آدمی کو لمبی عمر عطا کی۔ وہ اتنا بوڑھا ہوا کہ اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پرآ گئی تھیں۔ وہ فقیر وقلاش اور فتنوں میں مبتلا تھا۔ حتیٰ کہ اس بڑھاپے میں بھی لڑکیوں کو چھیڑا کرتا تھا۔ وہ انھیں بازاروں میں روکتا تھا؛ تاکہ ان سے شہوت انگیز گفتگو کرے۔ -اللہ کی پناہ!- وہ اپنے بارے میں کہا کرتا تھا: آزمائش میں مبتلا بوڑھا آدمی ہے، جسے سعد کی بد دعا لگی ہوئی ہے۔