اس حدیث میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ رُبَیِّع رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے کسی بچی کے سامنے والے کچھ دانت توڑ دیے۔ رسولُ اللہ ﷺ نے ان پر قصاص لاگو کرنے کا ارادہ فرمایا اور وہ یہ تھا کہ ان کے بھی دانت توڑے جائیں۔ تو انس بن نضر رضی اللہ عنہ (جو کہ ان کے بھائی تھے) نے بطور استفہام نہ کہ اللہ کے حکم کا انکار کرتے ہوئے آپ ﷺ سے پوچھا۔ اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ قسم اٹھائی کہ ان (رضی اللہ عنہا) کے دانت نہیں توڑے جائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ کا فیصلہ قصاص کے ساتھ مکمل ہو گا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ وہ دِیت دینے کے لیے راضی ہیں تو انہوں نے قصاص معاف کر دیا۔ اُس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کی درستگی اور اللہ سے امید کی مضبوطی کی وجہ اس کو مکمل کر دیتا ہے۔