حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے کسی قبیلے کا وفد آپ ﷺ کے پاس آیا، ان کا دعویٰ تھا کہ وہ لوگ اسلام لے آئے ہیں اور آپ ﷺ سے ایسے لوگوں کا مطالبہ کیا جو ان کو قرآن سکھائیں، آپ ﷺ نے ان کو ستر (70)صحابہ دیے، ان کو قرآن کا زیادہ حصہ یاد ہونے اور قرآن کے ساتھ زیادہ وابستگی کی وجہ سے انہیں قراء کہا جاتا تھا۔ تاہم قرآن کے ساتھ وابستگی انہیں کسبِ حلال سے نہیں روکتی تھی، اسی وجہ سے انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”وكانوا بالنَّهار يَجِيئُون بالماء، فَيَضَعُونَه في المسجد، وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ، ويَشترون به الطعام لأهل الصُّفَّةِ، وللفقراء“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دن کو یہ لوگ پانی لا کر مسجد میں رکھ دیا کرتے تھے تاکہ جو چاہے اسے پاکی حاصل کرنے یا پینے یا کسی اور غرض سے استعمال کرے۔ ”وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ، ويشترون به الطعام لأهل الصُّفَّةِ، وللفقراء“۔ اصحابِ صفہ وہ فقیر اور غریب لوگ تھے جنہوں نے مسجدِ نبوی کو اپنا ٹھکانا بنایا تھا، مسجد کے آخر میں، مسجد سے الگ ان کے لیے ایک چبوترہ تھا، جس پر سائبان تھا، وہاں وہ رات گزارتے تھے۔ آپ ﷺ نے قرّاء کو بھیجا، جب انہوں نے بئر معونہ پر پڑاؤ ڈالا، یہ اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے کی جگہ تھی، ان کی منزل أبو براء بن مُلَاعِبِ الْأَسِنَّہ کا گھر تھا، تو عامر بن طفیل اور اس کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت نے ان سے قتال کیا۔ ”اللهُمَّ بلِّغ عنَّا نبيَّنا أنَّا قد لَقِينَاكَ فرضِيْنَا عنَّك ورضِيت عنَّا " وفي رواية ’’ألا بَلِّغوا عنَّا قوْمَنا أنا قد لقِيْنَا ربَّنا فَرَضِي عنَّا وأرضَانا“۔ جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے آپ ﷺ کو بتایا ”أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوا رَبَّهُمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ“ جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے ملاقات کر لی، رب ان سے راضی اور وہ رب سے راضی ہیں۔ آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا ”إن إخْوَانَكم قد قُتِلوا وإنهم قالوا: اللَّهم بلِّغ عنَّا نبيَّنا أنَّا قد لَقِينَاكَ فَرَضِينا عنَّك ورَضِيت عنَّا“۔ یعنی ان کی اطاعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور اس کے بدلے اللہ نے جو ان کا اکرام کیا، انہیں بہت سارا خیر دیا اور اس خیر، احسان اور رحمت پر مستزاد یہ کہ اپنی خوشنودی دی اس سے وہ بھی خوش ہیں۔