غلام جب اپنے آقا کی خدمت، معروف میں فرماں برداری اور اس کے لیے خیر خواہی کے واجب حقوق ادا کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے؛ بایں طور کہ اس کے فرائض کی پابندی اور اس کے منہیات سے اجتناب کرتا رہے، تو اس کے لیے قیامت کے دن دوہرا اجر ہے؛ کیوں کہ وہ دو چیزوں کا مکلف ہے: اوّل: مالک کا حق، جب وہ مالک کا حق ادا کرے، تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ دوم: اپنے رب کی اطاعت کا اجر، پس جب غلام اپنے رب کی اطاعت کرے، تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔