سوید بن مقرن بتا رہے ہیں کہ میں بنی مقرن کے سات بھائیوں میں سے ایک تھا جو سب کے سب صحابہ اور مہاجر تھے۔ اس خصوصیت میں کوئی اور شخص ان کا شریک نہیں یعنی ہجرت کرنے میں سات بھائی شریک ہوں۔ ہم ساتوں کی خدمت کے لئے ایک ہی باندی تھی۔ ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اس کے گال پر تھپڑ مار دیا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے غلامی سے آزاد کردیں تاکہ اس کی آزادی اسے مارنے کا کفارہ بن جائے۔