جو شخص کا کسی غلام یا لونڈی میں حصہ ہو، خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ اپنے حصے کے بقدر آزاد کردے، تو اس کے آزاد کرنے کی وجہ سے اس کے حصے کی آزادی عمل میں آ جائے گی۔ اب اگر آزاد کرنے والا اپنے شراکت داروں کی قیمت ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے، تو وہ غلام کو اپنے اور شریک کے حصے سے مکمل آزادی دلائے گا اور اپنے شریک کے حصے کی قیمت مارکیٹ کی قیمت کے مطابق دے گا۔ اوراگر وہ شریک کے حصے کی قیمت ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے، تو غلام کی آزادی پر کوئی نقص واقع نہیں ہوگا۔ وہ صرف اس کے حصے کے بقدر آزاد ہوگا اور اس کے شریک کے حصے کے بقدر غلام کی غلامی برقرار رہے گی۔