عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی آزاد کردہ باندی کی برکت بیان کر رہی ہیں اور اس با برکت سودے کا ذکر کررہی جس نے اسے ان کے قریب کر دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت پر مشتمل اپنے احکامات میں سے تین کو ان کے بارے میں جاری فرمایا جو رہتے زمانے تک شرعی احکامات بن گئے۔ اول: وہ تب آزاد ہوئیں جب وہ اپنے غلام شوہر مغیث کے نکاح میں تھیں۔ انہیں اختیار دیا گیا کہ چاہے تو وہ اپنے پہلے نکاح پر ان کے ساتھ رہیں یا پھر انہیں چھوڑ دیں اور اپنے آپ کو الگ کر لیں۔ کیونکہ وہ مرتبے کے اعتبار سے اب ان کے ہم پلہ نہیں رہے تھے کیونکہ یہ آزاد تھیں اور وہ غلام اور اس معاملے میں برابری کا خیال رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے نکاح کو فسخ کر دیا۔ ان کا یہ عمل دوسروں کے لئے سنت بن گیا۔ دوم: ان کو بطور صدقہ گوشت دیا گیا جب کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں جنہوں نے انہیں آزاد کیا تھا۔ نبی ﷺ گھر آئے تو ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے کھانا مانگا تو گھر والوں نے آپ ﷺ کو روٹی اور گھر کا وہ سالن دے دیا جو وہ عموما استعمال کیا کرتے تھے اور بریرہ رضی اللہ عنہا کو جو صدقے کا گوشت آیا تھا اس میں سے آپ ﷺ کو کچھ بھی نہ دیا کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آگ پر چڑھی ہنڈیا میں گوشت نہیں تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ: جی بالکل ہے۔ لیکن وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بطور صدقہ آیا ہے اس وجہ سے ہم نے اسے آپ کو کھلانا مناسب نہیں سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: وہ ان کے لئے صدقہ ہے اور ان کے طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہو گا۔ سوم: بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکان نے جب انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیچنا چاہا تو انہوں نے شرط لگائی کہ آزاد کرنے پر حق ولاء انہی کے پاس رہے گا کیونکہ جب باندی ان کی طرف منسوب ہو گی تو یہ ان کے لئے فخر کا باعث ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اس سے انہیں کوئی مادی فائدہ بھی حاصل ہو جیسے وراثت اور نصرت وغیرہ۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا: ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا۔ یہ بیچنے والے یا کسی اور کو نہیں ملتا۔ ولاء در اصل مالک آقا اور مملوک غلام کے مابین اس کے آزاد ہو جانے کے بعد قائم رہنے والا ایک تعلق ہے۔ اگر غلام کا کوئی وارث نہ ہو یا پھر ذوی الفروض کے میراث میں سے اپنا حصہ لے چکنے کے بعد کچھ باقی بچ جائے تو وہ آقا کو بطور میراث مل جاتا ہے۔