نبی کریم ﷺ کے عہد میں یہودیوں کے اندر ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا، تو وہ آپ ﷺ کی خدمت میں ان دونوں کا فیصلہ کرانے کے ارادے سے حاضر ہوئے۔ وہ اس گمان میں تھے کہ شاید تورات میں موجود رجم (سنگ سار کرنے) کے حکم سے ہلکی سزا انھیں مل جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے تورات میں موجود اللہ تعالیٰ کے حکم کی بابت دریافت فرمایا۔ آپ کے دریافت کرنے کا مقصد اس پر عمل کرنا نہیں، بلکہ ان کی جگ ہنسائی کا سامان کرنا تھا۔ لیکن انھوں نے آپ ﷺ سے جھوٹ کہا کہ ان کے یہاں زناکاری کی سزار زانی اور زانیہ کو ذلیل و رسوا کرنا ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان کی اس بات کو جھٹلایا اور جب انھوں نے تورات کھولی، تو اس میں شادی شدہ زانی کو رجم (سنگ سار) کرنے کا حکم ملا۔ چنانچہ آپ ﷺ کے حکم سے دونوں کو سنگ سار کیا گیا۔ ہماری شریعت دوسری تمام شریعتوں پر حاکم اور ان تمام شریعتون کی ناسخ ہے۔ البتہ نبی ﷺ نے اس حدیث میں یہودیوں سے رجم کی سزا کے تئیں تورات کا حکم صرف اس لیے دریافت کیا تاکہ ان پر ان ہی کی کتاب سے حجت قائم ہوجائے جس کے بارے میں وہ انکار کر رہے تھے کہ تورات میں شادی شدہ زانی کی سزا سنگ سار کرنا نہیں ہے، نیز اس لیے لیے بھی کہ انہیں یہ واضح کردیں کہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتابیں اس سزا کے حکم میں متفق ہیں جس میں (معاشرے میں) فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت تنبیہ اور پھتکار ہے۔