جہینہ قبیلے کی ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی جو حاملہ تھی۔ اس نے زنا کیا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو بتایا کہ اس نے ایک ایسی چیز کا ارتکاب کیا ہے جس سے اس پر حد کی سزا واجب ہوتی ہے۔ (اس کے بتانے کا مقصد یہ تھا) کہ آپ ﷺ اس پر یہ حد نافذ کریں۔ نبی ﷺ نے اس کے ولی کو بلایا اور اسے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اور یہ کہا کہ جب وہ بچہ جن دے تو اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے۔جب اس نے بچہ جن دیا تو اس کا ولی اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا۔ اس کے کپڑے لپیٹ کر باندھ دیے گئے تا کہ وہ ننگی نہ ہو اور پھر آپ ﷺ کے حکم سے اسے سنگسار کر دیا گیا یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔ پھر نبی ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اس کے لیے وہ دعا مانگی جو مرنے والے کے لیے مانگی جاتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا تھا؟۔ نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ اس نے تو اتنی بڑی توبہ کی ہے کہ اگر اسے ستر گناہ گاروں میں بھی تقسیم کر دیا جائے تو ان کے لیے کافی ہوجائے۔ اس نے تو اللہ کی رضا کے لیے اور زنا کے گناہ سے خلاصی پانے کے لیے اپنی جان ہی دے دی۔ کیا اس سے بھی کوئی بڑا کام ہو سکتا ہے۔؟