عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اور وہ اسلام ہے۔ آپ ﷺ پر بہترین کتاب نازل فرمائی اور وہ قرآن ہے جس میں آیت رجم بھی نازل کی گئی جو کہ شادی شدہ زانی کے لیے تھی، اس کے الفاظ کو قرآن میں سے منسوخ کر دیا گیا جب کہ اس حکم کو باقی رکھا گیا۔ ان کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ بعد میں آنے والے لوگ قرآن کریم کے اس حکم کے منکر نہ ہو جائیں اس لیے اس کو بیان کر دیا ۔اور یہ بالکل برحق ہے کہ کوئی بھی شادی شدہ شخص جب زنا کرے اور اس کا نکاح صحیح ثابت ہو جائے یا وہ اپنے زنا کا اقرار یا اعتراف کر لے یا پھر بغیر شادی کے حمل وجود میں آ جائے یا پھر عورتوں کے معاملات کا کوئی ماہر یہ بتا دے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اس کی سزا رجم ہے۔ یہ وہ امور ہیں جو زانی کے لیے رجم کی سزا کو ثابت کرتے ہیں۔