حدیث میں اُن مسلمانوں کے خون کی حرمت کا اشارہ ہے جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جن سے نواقضِ اسلام میں سے کسی بھی ایسی بات کا ظہور نہیں ہوتا جو شہادتین کے برخلاف ہو۔ کیونکہ شارع حکیم (اللہ تعالی) نے جان کے تحفظ کو بہت اہمیت دی ہے اور اپنی شریعت کو اس کا پاسبان اور محافظ بنایا ہے اور اُس نے شرک باللہ کے بعد کسی بھی ایسی جان کے قتل کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو ۔ اس حدیث میں شارع نے ہر اس مسلمان کے قتل کو حرام قرار دیا جو شہادتین کا اقرار کرتا ہو سوائے اس کے کہ وہ تین میں سے کسی ایک با ت کا مرتکب ہو: اول: وہ زنا کرے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے شادی کی نعمت سے نوازا ہو اور صحیح نکاح کے ذریعے اس کی شرمگاہ کو عفت بخشی ہو۔ دوم: زیادتی اور ظلم کا ارتکاب کرتے ہوئے وہ کسی معصوم جان پر دست دراز ہو کر اسے قتل کر دے۔ ایسے شخص کے حق میں عدل و مساوات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اس نے کیا تاکہ حق قائم ہو اور ظالم لوگوں کو سرکشی سے باز رکھا جا سکے۔ سوم: جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے نکل پڑے بایں طور کہ ان پر ڈاکہ زنی کرے، انہیں دہشت زدہ کرے، ان کا مال ان سے چھینے اور ان میں فساد برپا کرے۔اس طرح کے شخص کو یا تو قتل کر دیا جائے گا یا سولی پرچڑھا دیا جائے گا یا پھر جلا وطن کر دیا جائے گا تا کہ لوگ اس کے شر اور ظلم و زیادتی سے نجات پا سکیں۔ یہ وہ تین لوگ ہیں جنہیں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ ان کے قتل کرنے میں دین و جان اور عزت و ناموس کی سلامتی ہے۔