یہ حدیث ان احکام کو بیان کر رہی ہے جو کسی مومن کو عمداً قتل کرنے کی وجہ سے لاگو ہوتے ہیں۔اس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ مقتول کے ورثاء کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قصاص کا مطالبہ کریں تو حاکم اس کو قتل کرے گا اور یہ اس کے عمل کی جنس کے حساب سے اس کی سزا ہو گی۔ یہاں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر وہ حدیث میں مذکور دیت پر راضی ہو جائیں (تو اس کے مطابق فیصلہ ہو گا)اور وہ دیت تیس حقہ،تیس جذعہ اور تیس حاملہ اونٹیاں ہوں گی کہ جن کے پیٹوں میں بچے موجود ہوں۔ اسی طرح حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء اس سے زائد کسی چیز کے ساتھ مصالحت پر راضی ہوں تو لے سکتے ہیں۔ اس حدیث میں جو دیت بیان کی گئی ہے (قتل عمد کی دیت) یہ انتہائی سخت دیت ہے کیونکہ اس میں قتل کی نیت اور ارادہ پایا جاتا ہے۔