اس حدیث میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو سینگ سے مارا اور سینگ وہ ہڈی ہوتی ہے جو چوپایوں کے سر میں ہوتی ہے۔ اس نے نبی کریمﷺ سے اُس مار کا قصاص طلب کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو زخم کے مندمل ہونے تک انتظار کرنے کو کہا کیونکہ کوئی پتہ نہیں تھا کہ یہ زخم مندمل ہوتا ہے یا نہیں، یا عضو پر اثر انداز ہو جائے یا اس کی جان پر اثر انداز ہو جائے اور انسان مر جائے۔اس نے انکار کیا اور قصاص میں جلدی کی۔ رسول اللہﷺ نے مجرم پر حد قائم کروا دی۔ مجرم قصاص کے بعد ٹھیک ہو گیا جب کہ قصاص کا مطالبہ کرنے والا لنگڑا ہو گیا۔ وہ رسول اللہﷺ کے پاس شکایت لے کر آیا تو رسول اللہﷺ نے وضاحت کی کہ تو نے قصاص میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا اور تاخیر پر راضی نہیں ہوا تھا، اس لیے تیری جو دیت بنتی تھی وہ حق تو نے وصول کر لیا۔ اس کی جلد بازی اور نبی کریمﷺ کے حکم کی نافرمانی پر آپ ﷺ نے اس کو ڈانٹتے ہوئے اس بات پر زور دیا اور زخم کے ٹھیک ہونے تک قصاص لینے میں تاخیر کا حکم دیا۔