حدیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ نمازِ فجر میں کسی خاص ناگہانی مصیبت کے بغیر دعائے قنوت پڑھنا بدعت ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وتر کےعلاوہ آپ ﷺ کسی نماز میں دعائے قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے سوائے اس کے کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت آ جائے۔ اس صورت میں تمام نمازی ساری نمازوں میں قنوت پڑھا کرتے تھے بطورِ خاص فجر اور مغرب کی نماز میں، جو بھی صورت اس مصیبت کے مناسب ہوتی تھی۔ جو شخص سنت میں غور و فکر کرے گا اسے قطعی طور پر معلوم ہوجائے گا کہ نبی ﷺ نے نمازوں میں دائمی طور پر دعائے قنوت نہیں پڑھی۔