نبی ﷺ اپنی امت کو اس بات کی بشارت دے رہے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ قیامت کےدن انہیں دیگر امتوں کے ما بین شرف وفضیلت کی ایک مخصوص نشانی بخشے گا اس طور پر کہ جب انہیں پکارا جائے گا تووہ لوگوں کے سامنے حاضر ہونگے اور ان کے چہرےاور ہاتھ اور پیر روشنی سے چمک رہے ہوں گے، اوریہ سب وضو جیسی عظیم عبادت کے نتیجے میں ہوگا، وہ وضو جسے وہ اللہ کی رضا اور ثواب کی امید میں بار بار ان اعضاء شریفہ پر کرتے تھے، تو یہ ان کا خاص بڑا انعام اور بدلہ ہے۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی اس چمک کو بڑھانے کی طاقت رکھتا ہو تو چاہئے کہ وہ ایسا کرے۔کیوں کہ دھلنے کی جگہیں جس قدر دراز ہوں گی اسی قدر روشنی اور چمک بھی لمبی ہوگی، کیوں کہ روشنی کا زیور وہاں تک پہونچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہونچا ہے۔ لیکن وضو میں مشروع صرف کہنی تک دونوں ہاتھوں کا دھلنا ہے اس لئے کہنی کو مکمل دھوئے گا بازو سے شروع کرتے ہوئے اور اس کے کچھ حصہ کو دھلتے ہوئے اسی طرح دونوں پاوں کو دھوئے گا دونوں ٹخنوں کومکمل دھوتے ہوئے پنڈلی سے شروع کرتے ہوئے، البتہ وضو میں بازو اور پنڈلی کا دھلنا مشروع نہیں ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: ”جنت میں مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا“۔