ان دونوں احادیث میں نبی ﷺ نے نماز فجر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایاہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور دیکھنے میں یوں لگے کہ وہ افق پر گاڑے ہوئے ایک نیزے کی لمبائی کے بقدر اس سے بلند ہو چکا ہے۔ اس وقت کی مقدار چند منٹ ہے، جن کے تعین میں علما کے مابین 5 سے 15 منٹ وقت تک کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے عصر کی نماز کے بعد بھی نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ یعنی مغرب کی اذان سے کچھ منٹ پہلے تک۔ کیوں کہ ان دونوں اوقات میں نماز پڑھنے سے مشرکین کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے، جو طلوع و غروب کے اوقات میں سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ مشرکین کی عبادات میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے؛ کیوں کہ جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے، وہ انہی میں سے گردانا جاتا ہے۔