اس حدیث میں قیامت کے دن سے اور دوزخ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے کیونکہ نبی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے ٹخنوں، گھٹنوں اور کمر تک آگ پہنچ رہی ہو گی اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کی گردن تک آگ پہنچ رہی ہو گی۔ چنانچہ عذاب کے لحاظ سے لوگ ایک دوسرے سے متفاوت ہوں گے اور ان کے مابین یہ تفاوت دنیا میں ان کے اعمال کے لحاظ سے ہو گا۔ ہم اللہ سے عافیت کے طلب گار ہیں۔