حصین بن عبد الرحمٰن رحمہ اللہ نے جھاڑ پھونک سے متعلق اپنے اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے مابین ہونے والی گفتگو کو بیان کیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ حصین کو بچھو نے ڈس لیا اور انھوں نے مشروع رقیہ کے ذریعے جھاڑ پھونک کیا۔ جب سعید نے ان سے دلیل طلب کی، تو انھوں نے شعبی کی وہ حدیث بیان کی، جو نظر بد اور زہر کے لیے جھاڑ پھونک کو مباح قرار دیتی ہے۔ سعید نے اس پر ان کی تعریف کی، لیکن اس کے ساتھ ان کے لیے ترکِ رقیہ کو بہتر قرار دینے والی حدیث بیان کی۔ وہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے، جس میں چار صفات سے متصف لوگوں کو حساب و عذاب کے بغیر جنت کا مستحق بتایا گیا ہے، جو درج ذیل ہیں:جھاڑ پھونک سے اجتناب کرنا، داغنے کے علاج سے پرہیز کرنا، بد فالی سے دور رہنا اور اللہ تعالیٰ پر سچا بھروسہ کرنا۔ جب عکاشہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس جماعت میں شامل ہونے کے لیے دعا کی درخواست کی، تو آپ نے بتایا کہ تم انھیں میں سے ہو۔ لیکن جب یہی گزارش دوسرے صحابی نے کی، تو آپ نے ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے منع کر دیا؛ تاکہ اس سلسلے کا سد باب کیا جا سکے۔