قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو حساب وکتاب اور جزا و سزا کے لیے جمع کرے گا۔ مومن لوگ کھڑے ہوں گے اور جنت کو ان کے قریب کر دیا جائے گا تاہم اسے ان کے لیے کھولا نہیں جائے گا کیونکہ قیامت کے دن میدان حشر میں بہت لمبے وقت کے لیے ٹھہرنا ہو گا۔ چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے گزارش کریں گے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں درخواست کریں کہ وہ ان کے لیے جنت کو کھول دے۔ آدم علیہ السلام انہیں یہ کہہ کر واپس کر دیں گے کہ وہ اس کے اہل نہیں ہیں کیونکہ ان کی خطا کی وجہ سے ہی تو ان سب کو جنت سے نکلنا پڑا تھا۔ وہ انہیں ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیج دیں گے کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں اور خلت محبت کا سب سے بلند درجہ ہے۔ وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے لیکن وہ بھی انہیں یہ جواب دیں گے کہ وہ اس مقامِ بلند کے حامل نہیں ہيں۔ وہ ان سے کہیں گے کہ موسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ تعالی نے ان سے بغیر کسی واسطے کے براہ راست کلام کیا تھا۔ چنانچہ وہ موسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور وہ بھی ان سے کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ تم عیسی علیہ السلام کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالی نے اپنے کلمے سے پیدا فرمایا۔ چنانچہ وہ عیسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور وہ بھی ان سے یہی کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ بالآخر وہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ ﷺ سے گزارش کریں گے کہ آپ ﷺ اللہ سے درخواست کریں کہ اللہ ان کا فیصلہ فرما دے اور ان کے لیے جنت کو کھول دے۔ آپ ﷺ ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے (اللہ سے شفاعت کی) اجازت کے طلب گار ہوں گے۔ آپ ﷺ کو اجازت دے دی جائے گی۔ پھر امانت اور رحم آکر پل صراط کے دونوں اطراف میں کھڑے ہو جائیں گے۔ پل صراط جہنم پر تانا ہوا پل ہو گا جس پر سے لوگ اپنے اعمال کے حساب سے گزریں گے۔ جو شخص دنیا میں نیک اعمال میں جلدی کرتا ہوگا وہ اس پل پر سے تیزی سے گزر جائے گا اور جو اس کے برعکس ہوں گے ان کا معاملہ بالکل الٹ ہوگا۔ ان لوگوں میں سے کچھ تو نجات پا کر نکل جائیں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو جہنم میں گر جائیں گے اور جہنم کے تہ تک ستر سال کے بعد پہنچیں گے کیونکہ جہنم کی تہ بہت دور ہے۔ اللہ کی پناہ!