اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن پڑھنے اور اس سے فیض یاب ہونے کے سلسلے میں لوگوں کی مختلف قسمیں بیان کی ہيں : پہلی قسم : ایسا مومن جو قرآن پڑھتا اور اس سے فیض یاب ہوتا ہو۔ اس کی مثال سنگترے جیسی ہے۔ لذیذ بھی، خوش بو دار بھی اور خوش رنگ بھی۔ اس کے منافع بے شمار ہيں۔ جو کچھ پڑھتا ہے، اس پر عمل کرتا ہے اور اللہ کے بندوں کو فیض یاب کرتا ہے۔ دوسری قسم : ایسا مومن جو قرآن نہ پڑھتا ہو۔ وہ کھجور جیسا ہے۔ میٹھا تو ہے، لیکن خوش بو ندارد۔ جس طرح کھجور کے اندر میٹھاپن ہوتا ہے، اس طرح اس کے اندر ایمان تو ہے، لیکن اس سے خوش بو نہيں نکلتی کہ لوگوں کے ذہن و دماغ کو معطر کر سکے۔ کیوں کہ اس سے قرآن کی قراءت نہيں ہوتی، جسے سن کر لوگوں کو راحت وسکون حاصل ہو۔ تیسری قسم : ایسا منافق جو قرآن پڑھتا ہو۔ اس کی مثال ریحانہ (ایک خوشبو دار پودا) جیسی ہے۔ اس کی خوش بو تو بڑی اچھی ہوتی ہے، لیکن ذائقہ کڑوا۔ کیوں کہ اس نے ایمان کے ذریعے اپنے قلب کی اصلاح نہيں کی اور قرآن پر عمل نہیں کیا اور لوگوں کو یہ دکھانے کی کوشش کی کہ وہ صاحب ایمان ہے۔ ریحانہ کی خوش بو منافق کی قراءت کی مانند ہے اور اس کا کڑوا پن منافق کے کفر کی مانند۔ چوتھی قسم : ایسا منافق جو قرآن نہ پڑھتا ہو۔ اس کی مثال اندرائن جیسی ہے۔ خوش بو بھی نہیں اور ذائقہ بھی کڑوا۔ اندرائن کا خوش بو سے خالی ہونا منافق کا قرآن کی تلاوت سے دور رہنے کی طرح ہے، جب کہ اس کا کڑواپن منافق کے کفر کے کڑوے پن کی طرح ہے، جس کا باطن ایمان سے خالی ہوتا ہے اور ظاہر بالکل نفع بخش نہ ہو، بلکہ ضرر رساں ہو۔