عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو ان کے پاس ایک گدھا تھا۔ جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے، تو اس پر (کچھ دیر) آرام کرتے پھراونٹ پر سوار ہوجاتے۔ انہی ایام میں ایک دن ایک اعرابی سے ملاقات ہوئی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تو فلاں بن فلاں ہے؟ اس نے کہا:ہاں! چنانچہ آپ اپنے گدھے سے اتر آئے اور اس سے کہا کہ تم اس پر سوار ہو جاؤ اور اپںے سر پر بندھا ہوا عمامہ اتار کر اس کو دے دیا اور اس سے کہا کہ اس کو اپنے سرپر باندھ لو۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے یامغفرت فرمائے! یہ بدو لوگ ہیں اور بدو تو اس سے کم پر بھی راضی ہو جاتے ہیں!! لوگ یہ کہنا چاہتے تھے کہ آپ نے اپنا گدھا، جس پر آپ سوار ہوتے تھے اور عمامہ جسے سر پر باندھتے تھے، اسے دے کر پیدل چلنا کیسے گوارا کر لیا، جب کہ وہ ایک اعرابی ہے، اس سے کم پر بھی راضی ہوجاتا؟ تو انھوں نے فرمایا: ”سب سے بہتر نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے“۔ یعنی جب انسان کا باپ، ماں یا کوئی قریبی فوت ہو جائے تو، ان سے لگاؤ اور انسیت رکھنے والوں سے حسن سلوک کرے۔ یعنی صرف ان کے دوست کے ساتھ نہیں بلکہ اس دوست کے عزیز و اقارب کے ساتھ بھی۔ اس اعرابی کا باپ عمر کا رضی اللہ عنہ کادوست تھا۔ یعنی عبداللہ کے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ اس لیے اپنے والد گرامی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نیک برتاؤ کے سلسلے کو دراز کرتے ہوئے ان کی عزت افزائی کی۔