اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ عبادات توقیفی (اللہ کی طرف سے متعین) ہوتے ہیں، ہر مسلمان کے لیے اسے اسی کیفیت پر ادا کرنا ضروری ہے جس طرح شریعتِ حنیف نے بتایا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس شخص سے کہا جو زمین میں اللہ کی عبادت کی غرض سے سفر کا ارادہ کرتا تھا کہ یہ عیسائیوں کا طریقہ ہے۔ اور زمین میں سفر کرنا اسلام پھیلانے کی غرض سے ہوتا ہے اور اہلِ اسلام کی سیر اللہ تعالی کے دین کی سربلندی کی خاطر جہاد کرنے میں ہے۔