مسلمانوں کی حفاظت کی غرض سے ایک دن رات کی پہرے داری کرنا ایک ماہ کے روزوں اور اس کی راتوں کو عبادت کی غرض سے قیام کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ جب مجاہد شہید ہو جاتا ہے تو اس کے عمل کا اجر لکھا جاتا رہتا ہے اور وہ منقطع نہیں ہوتا۔ اسی طرح اسے جنت سے رزق بھی دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہوتا ہے اور اسے یہ عزت و شرف ملتا ہے کہ اس کے پاس فرشتے سوال و جواب کے لیے نہیں آتے۔ کیونکہ اس کی موت اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے آتی ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ سرحدوں پر پہرہ دینا جہاد فی سبیل اللہ ہی ہے کیونکہ اس سے مراد مسلمانوں کی کفار سے حفاظت کی غرض سے سرحدوں پر جمے رہنا ہے۔