عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے پر ابھارا اور وضاحت فرمائی کہ نکاح کی افضلیت حق مہر کم ہونے کے ساتھ ہے اور یہ کہ کم حق مہر کے عوض نکاح کرنا مستحب ہے اور بہت زیادہ حق مہر خلافِ افضل ہے اگرچہ یہ جائز ضرور ہے۔ کیونکہ جب حق مہر کم ہو گا تو جو شخص نکاح کرنا چاہے گا اس کے لئے اس میں دشوار ی نہیں ہو گی اور یوں نکاح کی کثرت ہو گی جو کہ ایسا عمل ہے جس کی ترغیب دی گئی ہے اور غریب لوگ بھی شادی کر سکیں گے اور اس سے نسل انسانی میں اضافہ ہو گا جو کہ نکاح کا اہم مقصد ہے۔ پھر عقبہ رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کے سامنے یہ بات رکھی کہ آپ ﷺ اس کی شادی ایک عورت سے کر ديتے ہیں اور پھر یہی بات عورت کے سامنے بھی رکھی۔ جب دونوں اطراف نے رضامندی کا اظہار کر دیا تو نبی ﷺ نے ان کی شادی کرا دی ۔ مرد نے عورت کے لیے حق مہر مقرر نہ کیا اور (بطور حق مہر) اسے کچھ دیے بغیر ہی اس سے مباشرت کر لی۔ جب اس شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنی غنیمت میں ملنے والی خیبر کی زمین میں سے ایک حصہ اسے بطور مہر دے دیا۔ عورت نے اسے لے کر بیچ دیا جس کی قیمت ایک لاکھ ہوئی۔