حدیث کا موضوع حق مہر میں تخفیف کا استحباب ہے۔ حق مہر اگرچہ مشروع ہے لیکن بہترین حق مہر وہی ہے جس کی ادائیگی آسان ہو اور وہ عورتیں بھی بہترین ہیں جو تھوڑے حق مہر پر رضا مند ہو جاتی ہیں۔ اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کو زیادہ سے زیادہ ساڑھے بارہ اوقیہ حق مہر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ عادات و عبادات میں کامل نمونہ ہیں۔ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس حساب سے یہ ساڑھے پانچ سو درہم بنتے ہیں۔ یہ آج کے لوگوں کے بالکل برعکس ہے جو لمبے چوڑے حق مہر باندھتے ہیں اور عورت نیز اس کے ورثاء کو جو مال ودولت دیتے ہیں اس پر فخر کرتے ہیں، خواہ خاوند غریب ہو یا امیر وہ یہی چاہتا ہے کہ اس معاملے میں وہ کسی سے پیچھے نہ رہے اور یہی شادی میں تاخیر کا سبب بن جاتا ہے۔