نبی ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر کچھ زعفران کا نشان لگا دیکھا۔ جب کہ مردوں کے لیے وہ خوشبو اچھی ہوتی ہے جس کی مہک تو خوب پھیلے لیکن اس کا نشان مخفی رہے، (جب کہ زعفران میں یہ خوبی نہیں ہوتی اور وہ عورتوں کی خوشبو مانی جاتی ہے)۔آپ ﷺ نے ناپسندیدگی کے انداز میں ان پر لگے اس زعفرانی رنگ کے نشان کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہے اور ان پر یہ رنگ ان کی بیوی سے لگ گیا ہے۔چنانچہ اس پر آپ ﷺ انہیں رخصت دے دی۔ چونکہ آپ ﷺ صحابہ پر بہت شفقت اور مہربانی فرمایا کرتے تھے اس لیے آپﷺ ان کے احوال پر نظر رکھا کرتے تھے تاکہ انہیں اچھی حالت پر باقی رہنے دیں اور بری حالت سے انہیں منع کریں۔ آپ ﷺ نے ان سے اپنی بیوی کو دیے گئے مہر کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے کھجور کی ایک گٹھلی برابر سونا بطور مہر دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی اور انہیں اپنی شادی کی وجہ سے ولیمہ کرنے کا حکم دیا اگرچہ ایک بکری ہى سے ہو۔