یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت شادی کے بعد مہر متعین ہونے سے پہلے شوہر کے فوت ہو جانے سے مکمل مہر کی مستحق ہوگی؛ اگرچہ دخول و خلوت نہ حاصل ہوئی ہو۔ اگر مہر متعین نہیں کیا گیا ہے تو خاندان کی دیگر عورتوں کے مہر کے مطابق اس کا مہر متعین کیا جائے گا۔ یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ایسی عورتوں پرعدت ہے؛ کیوں کہ اس کا نکاح ہوچکا ہے، اگر شوہر کی وفات ہو جائے تو اس پر وفات وسوگ کی عدت واجب ہوگی، گرچہ دخول وخلوت نہ ہوئی ہو۔ اسی طرح وہ میراث کی مستحق ہوگی؛ کیوں کہ وہ بیوی ہے، شوہر کے اس سے شادی کرنے کی وجہ سے۔