یہ حدیث بتا رہی ہے کہ ایک شخص نے کسی کے ہاں مزدوری کی اور صاحب خانہ کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ زانی کے والد نے یہ بات سن رکھی تھی کہ ہر زانی کی سزا رجم (سنگسار کرنا) ہے؛ لہٰذا اس نے خاتون کے شوہر کو سو بکریاں اور ایک باندی فدیہ میں دے دی۔ پھر بعض اہل علم سے دریافت کرنے پر انھیں پتہ چلا کہ ان کے بیٹے پر نہیں، بلکہ اس خاتون پر رجم کی سزا نافذ ہوگی اور ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اس کو جلا وطنی کی زندگی گذارنی ہوگی۔ لہٰذا زانیہ خاتون کا شوہر اور زانی شخص کے والد، دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ ﷺ ان کے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ صادر فرمائیں۔ آپ ﷺ نے زانی کے والد کی سو بکریاں اور باندی واپس کرنے کا حکم دیا اور انھیں اس بات سے مطلع فرمایا کہ ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کردیا جائے گا؛ کیوںکہ وہ تاحال غیر شادی شدہ تھا اور زانیہ خاتون کے تئیں حکم دیا کہ اس سے بھی اس امر کا تیقن حاصل کرلیا جائے کہ اس نے اس بدکاری کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا اقرار جرم کے بعد اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا؛ کیوں کہ وہ شادی شدہ تھیں۔