اس حدیث میں خوف کی نماز کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ذکر کیا گیا ہے۔ خوف کی نماز کے اس طریقے میں دشمن قبلے کی جانب ہے، آپ ﷺ نے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ پہلی صف میں اور دوسرا دوسری صف میں ہے، پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی، جس میں تمام لوگ ایک ساتھ تکبیر ، ایک ساتھ قرأت ، ایک ساتھ رکوع اور ایک ساتھ رکوع سے اٹھتے ہیں، پھر سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ساتھ والی صف بھی سجدہ کرتی، پھر جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو پچھلی صف جو کہ دشمن کے سامنے پہرا دے رہی تھی سجدہ کرتی، جب کھڑے ہوئے تو برابری کی رعایت کرتے ہوئے پچھلی صف آگے اور اگلی صف پیچھے ہوجاتی کہ پوری نماز میں پہلی صف اپنی جگہ پر نہیں رہتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا جیسا پہلی صف میں کیا، پھر تمام کو تشہّد کروائی اور سب کے لیے سلام پھیرا۔ اس حدیث میں نمازِ خوف کی یہ کیفیت تفصیل سے ذکر ہوئی، یہ اس واقع حال کے مناسبت سے تھی جو آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درپیش تھی کہ دشمن قبلے کی جانب ہے، وہ دشمن کو قیام اور رکوع کی حالت میں دیکھ رہے ہیں اور پچھلی جانب سے دشمن کے حملے سے محفوظ ہیں۔