نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ ایک غزوے میں تشریف لے گئے، جس میں اکثر صحابہ پیدل تھے۔ جب وہ پاؤں ننگے ہونے کی وجہ سے نڈھال ہو گئے، تو اپنے قدموں پر کپڑوں کے چیتھڑے لپیٹ لیے۔ نبی ﷺ کا دشمن کے ساتھ آمنا سامنا تو ہوا، لیکن قتال کی نوبت نہ آئی، تاہم مسلمانوں نے اپنے دشمنوں کو خوف زدہ ضرور کر دیا۔ اس حدیث کی رو سے دشمن قبلے کی سمت میں نہیں تھے، کیوںکہ ان کے گھر مدینے کے مشرقی جانب تھے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے مسلمانوں کے دو گروہ بنا دیے۔ ایک گروہ نے نماز کے لیے صف بندی کر لی اور دوسرا گروہ نمازیوں کے پیچھے موجود دشمن کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ نبی ﷺ نے اپنے ساتھ موجود لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ کھڑے رہے، جب کہ لوگوں نے خود ہی اپنی دوسری رکعت پوری کی اور سلام پھیر دیا اور دشمن کی جانب چلے گئے۔ پھر دوسرا گروہ آ گیا۔ آپ ﷺ نے انہیں باقی ماندہ ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک اور رکعت پڑھ لی۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ پہلے گروہ کو امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہنے کی خصوصیت حاصل ہوئی اور دوسرے کو نماز سے نکلنے یعنی امام کے ساتھ سلام پھیرنے کی خصوصیت ملی۔ یوں آپ ﷺ نے دشمن کو حملہ کرنے کا موقع نہ دیا اور اس کے ساتھ ساتھ امام کے ساتھ نماز کی فضیلت پانے میں بھی سب برابر کے شریک رہے۔