عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس حدیث میں ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ جب فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر کو اٹھاتے، تو ”سمع الله لمن حمده“ کہنے کے بعد مشرکین کے کچھ سرکردہ افراد کے خلاف دعا کرتے۔ بسا اوقات آپ ﷺ ان کے نام بھی لیتے۔ ان لوگوں نے جنگ احد میں آپ ﷺ کو اذیت دی تھی۔ آپ ﷺ ان کا نام لے کر ان پر لعنت کرتے۔ اس پر اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی سرزنش کرتے ہوئے ایک آیت نازل فرمائی، جس میں آپ کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ ”اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں“۔ منع اس لیے کیا گیا، کیوںکہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ عنقریب اسلام قبول کر کے بہت اچھے مسلمان بن جائیں گے۔