اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ شکاری نے جب شکار پر تیر یا اس کے حکم میں داخل کوئی اور اوزار چلایا، پھر وہ شکار کو لگ گیا، اس کے بعد شکار شکاری کی نظروں سے اوجھل ہو گیا اور بعد میں ملا، تو ایسے میں اگر وہ شکار کے جسم پر اپنے چلائے ہوئے تیر کے نشان کے علاوہ کسی دوسرے قاتل زخم کا نشان نہ پائے، تو اسے کھا سکتا ہے۔ لیکن یہ جواز اس وقت تک ہے، جب تک اس کے اندر بدلاو اور بد بو نہ آ گئی ہو۔ اگر ایسا ہو جائے تو وہ خبائث یعنی گندی چیزوں میں شمار ہوگا اور انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے کی وجہ سے اس کو کھانا جائز نہیں ہوگا۔