ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ وہ لوگ، اہل کتاب کے ہمسائیگی میں رہنے کی بنا پر کچھ مسائل کے شکار ہیں۔ یہاں اہل کتاب سے ان کی مراد یہود و نصاری ہیں۔ ایسے میں کیا ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ان کے برتنوں میں گندگی کایقین رکھتے ہوئے بھی کھاسکتے ہیں؟ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں دو شرطوں کے ساتھ ان کے برتنوں میں کھانے کے جواز کا فتویٰ دیا۔ کھانے کے علاوہ دیگر امور میں ان برتنوں کا استعمال بدرجۂ اولی جائز ہوگا۔ (1) ایک یہ کہ انھیں ان کےعلاوہ برتن میسر نہ آئیں (2) اور دوسری یہ کہ وہ ان برتنوں کو دھو کر ہی استعمال کریں۔ انھوں نے آپ ﷺ سے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ وہ ایسی سرزمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت زیادہ عام ہے اور وہ اپنی کمان، شکار اور اس کے آداب کے بارے میں تربیت یافتہ کتے اور بلا تربیت یافتہ کتے سے بھی شکار کرتے ہیں، تو ان کے لیے کس شکار کا کھانا جائز ہے اور ان آلات سےکیے گئے شکار میں سے کون سا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے انھیں فتویٰ دیا کہ تیر وکمان سے کیا جانے والا شکار اس شرط کے ساتھ حلال ہے کہ "بسم اللہ" کہتے ہوئے تیر چھوڑا جائے۔ جہاں تک کتوں سے کیے جانے والے شکار کا معاملہ ہے، توسکھائے گئے کتوں کو چھوڑتے وقت بسم اللہ کہنے سے، وہ شکار بھی حلال ہوجاتا ہے اور غیر سکھائے گئے کتوں کے ذریعے کیا جانے والا شکار اسی صورت میں حلال ہے کہ شکار زندہ حالت میں دستیاب ہو اور اس کو شرعی طور پر ذبح کیا جائے۔