اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھانے میں میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ شہد کو پسند کرتے تھے، جب آپ ﷺ عصر کی نماز سے واپس آتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی کسی کو بوسہ دیتے اور جماع کے بغیر ان سے بغل گیر ہوتے۔ ایک مرتبہ آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گیے تو ان کے پاس کچھ زیادہ ہی دیر رُک گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا، معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے چھوٹے ڈبے میں شہد ہدیہ کیا ہے جس میں سے آپ ﷺ پیتے ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کو غیرت آئی اور انہوں نے سودہ و صفیہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا کہ جب آپ ﷺ کسی کے پاس آئیں تو وہ آپ ﷺ سے پوچھے کہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ مغافیر ایک قسم کے بدبو دار گوند کو کہتے ہیں اور نبی ﷺ خوشبو کے علاوہ کسی اور چیز کے بو کو ناپسند کرتے تھے، پھر جب آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے شہد پیش کیا لیکن آپ ﷺ نے انکار کر دیا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے دوبارہ نہ پینے کی قسم کھالی۔ روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی کس بیوی کے یہاں شہد پیا، کہا گیا ہے کہ زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سودہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا، بعض علماء نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آپ ﷺ نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حفصہ رضی اللہ عنہا مخالفت کرنے والی تھیں اور بعض لوگوں نے اسے تعددِ واقعہ پر محمول کیا ہے اس لیے کہ ایک ہی چیز کے لیے تعددِ سبب کا ہونا مانع نہیں ہے، اس طرح یہ دوسرا واقعہ ہوسکتا ہے۔