اس حدیث میں جہاد پر نکلنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس شخص کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سخت سزا کی وعید ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کو چھوڑ دیتا ہے یا پھر مجاہدین کی مال کی صورت میں اعانت نہیں کرتا یا ان کے اہل و عیال کی خبرگیری اور ان کی حفاظت کرکے ان کی مدد نہیں کرتا۔ جو شخص ان تمام امور کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے دین کی نصرت میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے سخت مصائب میں مبتلا ہوتا ہے۔