اس حدیث میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اللہ کی طرف سے اس ضمانت کا بیان ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا محض اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے خالص جہاد کے لئے نکلتا ہے، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کسی ایک یا دو چیزوں کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر وہ شہید کردیا گیا، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرنے کا ضامن ہے اورباقی بچ گیا تو اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ گھر واپس پہنچائے گا۔ یعنی یا تو ثواب کے ساتھ بغیر غنیمت کے یا ثواب اور غنیمت دونوں کے ساتھ۔ رہی دوسری روایت، جسے صاحبِ 'عمدہ' نے مسلم کی طرف منسوب کیا ہے، حالاں کہ وہ متفق علیہ ہے، اس میں بیان کیا گيا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی فضیلت یعنی ایسا عمل جو جہاد کے قائم مقام ہو، انسانی طاقت سے باہر کی چیز ہے؛ کیوں کہ وہ عمل لگاتار نماز، روزہ اور قیام اللیل میں لگے رہنا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔