حدیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ زندگی گزارنےکی سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ بندے نے گھوڑے کی لگام تھام رکھی ہو۔ (یعنی ہروقت راہ جہاد میں نکلنے کے لیے تیار رہتاہو۔) آپ ﷺ کا فرمان: ”اس کی پیٹھ پر (بیٹھ کر) اللہ کی راہ میں اڑتا (تیزی سے حرکت کرتا) پھرے، جب بھی (دشمن کی) آہٹ یا (کسی کے) ڈرنے کی آواز سنے، اڑ کر وہاں پہنچ جائے، ہر اس جگہ قتل اور موت کو تلاش کرتا ہو“ یعنی جب بھی اسے (دشمن کی) کوئی آہٹ سنائی دے یا دشمن کی طرف بڑھنے کی آواز سنائی دے تو وہ شوق شہادت میں جلدی سے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر ان جگہوں اور مقامات پر قتل ہونے کی تمنا لئے ہوۓ چل دے، جہاں پر قتل ہونے کا گمان ہو۔ اس حدیث میں اس بات کی بھی دلیل ہے گوشہ نشینی بہت اچھی بات ہے اور جو شخص لوگوں سے الگ تھلگ کسی وادی یا گھاٹی میں اللہ کی عبادت کررہا ہو اور وہ لوگوں سے صرف اچھائی ہی کا تعلق رکھتا اس شخص میں خیر ہی خیر ہے۔