اس حدیث کی دو روایات ہیں اور سیاق سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں نہ کہ ایک ہی واقعہ: پہلی روایت: یہ ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے۔ کیا اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے ان کی ادائیگی کرے؟ دوسری روایت: ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ نذر کا ایک روزہ واجب الادا تھا۔ کیا وہ اس کے طرف سے روزہ رکھ سکتی ہے؟ نبی ﷺ نے دونوں کو فتویٰ دیا کہ وہ اپنے والدین کے ذمہ واجب الاداء روزے رکھیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں یہ بات سمجھانے کے لیے اور مزید وضاحت کے لیے ایک مثال دی کہ اگر ان کے والدین کے ذمے کسی آدمی کا کوئی قرض ہوتا تو کیا وہ ان کی طرف سے اسے ادا کرتیں؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ: یہ روزہ اللہ کا ان کے والدین پر قرض ہے۔ اورجب آدمی کا قرض ادا کیا جاتا ہے تو اللہ کا قرض بدرجۂ اولیٰ ادا کرنا چاہیے۔