عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ کوئی فرض روزہ جیسے نذر، کفارے یا رمضان کی قضا کا روزہ ہو تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزہ رکھے۔ کیونکہ یہ اس پر قرض ہے اور اس کی طرف سے ادائیگی کی سب سے زیادہ ذمہ داری اس کے قریب ترین رشتہ دار پر آتی ہے۔کیونکہ یہ اس کے ساتھ حسن سلوک، نیکی اور صلہ رحمی میں آتا ہے۔ یہ حکم مستحب ہے نہ کہ واجب۔