حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ بھوک اور کمزوری کی وجہ سے کچھ لوگ نماز میں حالت قیام میں گر جاتے۔ یہ زاہد صحابہ، یعنی اہل صفہ تھے جو فقیر اور غریب تھے۔ یہ کل ستر لوگ تھے۔ کبھی کچھ کم ہوجاتے اور کبھی زیادہ۔ یہ مسجد کے چبوترے پر رہا کرتےتھے۔ ان کا کوئی گھر بار نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس مال یا اولاد تھی۔ ان کے گرنے کی وجہ سے بعض دیہاتی انہیں پاگل سمجھتے۔ اس پر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تمھیں علم ہوتا کہ اللہ کے ہاں تمہارے لئے کیا خیر محفوظ ہے، تو تمھیں یہ پسند ہوتا کہ تمھارا فاقہ یعنی تمہاری فقیری اور حاجت مندی اور بڑھے۔