عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کو 4000 وظیفہ دیا۔ آپ کے بیٹے (عبداللہ) بھی مہاجرین ہی میں سے تھے لیکن آپ نے انہیں 3500 وظیفہ دیا کیوں کہ ان کے بیٹے نے آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی جب کہ وہ نابالغ تھے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ اپنے بیٹے کو بالغ مہاجرین کے ساتھ ملائیں۔ چنانچہ آپ نے ان کا وظیفہ ان مہاجرین سے کم رکھا جنہوں نے بذات خود ہجرت کی تھی۔امت کے مال کے معاملے میں اس دنیا نے نبی ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کی طرح کا کوئی زاہد و متقی حکمران نہیں دیکھا۔ ہر اس شخص پر ایسا ہی طرز عمل واجب ہے جس کے پاس مسلمانوں کے معاملات میں سے کسی معاملے کی ذمہ داری آئے کہ نہ تو وہ کسی رشتہ دارکی اس سے تعلقِ قرابت کی بنا پر طرف داری کرے اور نہ کسی امیر کی اس کی امارت کی وجہ سے اور نہ کسی غریب کی اس کی غربت کی وجہ سے طرفداری کرے بلکہ اسے چاہیے کہ ہر ایک کو اس کے مقام پر رکھے۔ ایسا کرنا عین تقوی و عدل ہے۔