عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک دن نبی ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ نبی ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو جلدی سے کھڑے ہو کر صفوں کو چیرتے ہوئے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کے حجرے کی طرف چلے گئے۔ اس کی وجہ سے لوگ گبھرا گئے۔ پھر جب آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ آپ ﷺ کے اس عمل سے حیرت میں مبتلا ہیں، تو اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کو کچھ اَن ڈھلا سونا یاد آگیا تھا، جسے تقسیم کرنا ضروری تھا۔ آپ ﷺ کو یہ بات پسند نہ آئی کہ اسے اپنے پاس رکھے رہیں اور اس کی وجہ سے آپ ﷺ کی توجہ اور ذہن اللہ تعالی سے ہٹا رہے۔