صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ايک صحابی کے جنازہ ميں اہل مدينہ کے قبرستان ميں تھے۔ نبی ﷺ تشریف لائے اور صحابہ کے درميان بيٹھ گئے۔ آپ کے ہاتھ ميں ایک چھڑی تھی۔ آپ ﷺ نے کسی غمگين، فکرمند کی طرح اپنا سر مبارک جھکا لیا اور چھڑی سے زمین کو کریدنےلگے، پھر فرمايا: بلا شبہ اللہ نے لوگوں کی تقديريں اور جنت اور جہنم ميں ان کے ٹھکانے لکھ ديے ہيں۔ جب صحابہ نے نبی ﷺ سے يہ سنا تو عرض كيا کہ جب تقدير ميں يہ بات لکھ دی گئی ہے کہ بدبخت برا ہوگا اورنيک بخت اچھا ہوگا، نيز جو جنتی ہے جنت ميں جائے گا اور جہنمی جہنم ميں رہے گا، جب معاملہ ايسا ہےتو کيوں نہ ہم عمل کرنا چھوڑديں۔ اس ليے کہ کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہيں ہے، کیوں کہ ہر چيز لکھ دی گئی ہے اور مقدر کر دی گئی ہے۔ توآپ ﷺ نے انہيں جواب ديتے ہوئے ارشاد فرمايا: اعمال انجام ديتے رہو اور جو اللہ نے اچھا يا برا مقدر کرديا ہے اس پر اعتماد کرکے نہ بيٹھ جاؤ، بلکہ جس کا حکم ديا گيا ہے اس کے مطابق عمل کرو اور جس سے روکا گيا ہے اس سے بازرہو۔کیوں کہ جنت عمل ہی کے ذريعہ حاصل ہوگی اور جہنم ميں عمل ہی کے سبب جانا پڑےگا۔ چنانچہ صرف وہی شخص جہنم ميں جائے گا جو جہنميوں کا کام کرے گا اور صرف وہی شخص جنتی ہوگاجو جنتيوں والے اعمال انجام دے گا۔ ۔ہر شخصکو اس کی تقدير کے مطابق ہی اچھائی يا برائی کی توفيق ملتی ہے۔ پس جو نيک بختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ نيک بختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے اور جو بدبختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ بدبختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے۔